لاہور: سیلاب سے 41 افراد جاں بحق، 32 سو سے زائد دیہات کو نقصان پہنچا جبکہ 24 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کی دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی، ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کہا کہ دریائے راوی ستلج اور چناب میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث 32 سو سے زائد موضع جات متاثر ہوئے۔
بونیر، خیبر اور گرد و نواح میں طوفانی بارش ، گھر سیلابی پانی میں بہہ گیا
دریاؤں میں سلابی صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 24 لاکھ 52 ہزار لوگ متاثر ہوئے، سیلاب میں پھنس جانے والے 9 لاکھ 99 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔حالیہ سیلاب میں ڈوبنے سے 41 شہری جاں بحق ہوئے۔ریلیف کمشنر پنجاب نے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔کسانوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔
ریلیف کمشنر نے کہا کہ شدید سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 395 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں، 392 میڈیکل کیمپس جبکہ مویشیوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے 336 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ اضلاع میں ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں میں 7 لاکھ 8 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 53 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے ستلج سلیمانکی کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 24 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے ستلج ، راوی اور چناب میں بڑے سیلابی ریلے کا خدشہ، مزید بارشوں کی بھی پیشگوئی
ریلیف کمشنر پنجاب نے کہا کہ دریائے چناب میں بڑا سیلابی ریلا جنوبی پنجاب کی طرف بڑھ رہا ہے۔دریائے چناب مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 96 ہزار کیوسک ہے، دریائے چناب میں خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 20 ہزار کیوسک ہے۔
ہیڈ تریموں کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، ریلیف کمشنر پنجاب نے کہا کہ ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 16 ہزار کیوسک ہے اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ منگلا ڈیم 82 فیصد جبکہ تربیلا ڈیم 100 فیصد تک بھر چکا ہے۔
