راولپنڈی،اسلام آباد،لاہور، پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے(earthquake) کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔
زلزلہ رات 12 بج کر 17 منٹ پر آیا،جس کی شدت 6 ریکارڈ کی گئی،مرکز افغانستان جبکہ گہرائی 15 کلومیٹر تھی،زلزلے کے جھٹکے افغانستان، بھارت اور تاجکستان میں بھی محسوس کیے گئے۔
ڈیزل 3 روپے سستا، پٹرول کی قیمت برقرار
زلزلہ آتے ہی شہری گھروں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے،ابتدائی اطلاعات کے مطابق پاکستان میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
افغانستان کی صورتحال
افغانستان میں عمارتیں گرنے سے 9 افراد جاں بحق جبکہ 25 زخمی ہوگئے،امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز جلال آباد کے قریب اور گہرائی 8 کلومیٹر تھی۔
زلزلہ افغانستان کے مقامی وقت کے مطابق رات 11 بج کر 47 منٹ پر آیا،تقریباً 20 منٹ بعد اسی صوبے میں 4.5 شدت کا ایک اور جھٹکا محسوس ہوا،دوسرے جھٹکے کی گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
زلزلہ کیوں اور کیسے آتا ہے؟
ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری انڈین اور تیسری اریبئین ہے۔
زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔
زلزلہ قشر الارض سے توانائی کے اچانک اخراج کی وجہ سے رونما ہوتا ہے، يہ توانائی اکثر آتش فشانی لاوے کی شکل ميں سطح زمين پر نمودار ہوتی ہے،زیادہ تر زلزلے فالٹ زون میں آتے ہیں، جہاں ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ٹکراتی یا رگڑتی ہیں۔
پاکستان اور آرمینیا کے درمیان باضابطہ طور پر سفارتی تعلقات قائم
پلیٹوں کے رگڑنے یا ٹکرانے کے اثرات عام طور پر زمین کی سطح پر محسوس نہیں ہوتے لیکن اس کے نتیجے میں ان پلیٹوں کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ جب یہ تناؤ تیزی سے خارج ہوتا ہے تو شدید لرزش پیدا ہوتی ہے جسے سائزمک ویوز یعنی زلزلے کی لہر کہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔
