پاکستان میں پچھلے پچھہترسالوں میں 35 چھوٹے بڑے سیلابوں میں لگ بھگ سترہ ہزار ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔
ہم انویسٹی گیٹس کوحاصل سرکاری اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں تین خطرناک سیلابوں سے معیشت کو 70 ارب ڈالرکا نقصان ہوچکا ہے، تحقیق کے مطابق سال 2010، 2022 اوراب 2025 کےسیلابوں نے ملک میں بڑے پیمانے پرتباہی پھیلائی ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ تین درجن کے قریب سیلاب مجموعی طور پر110 شہر، 2 لاکھ سے زائد گائوں میں تباہی مچا چکے ہیں، ساڑھے سات لاکھ سکوئر مربع میٹرکا علاقہ متاثرکرچکے ہیں، 27 ہزار 101 کلومیڑپرمشتمل روڈ نیٹ ورکس تباہ ہوچکا ہے۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جہاں 1154 رابطہ پلیں تباہ ہوئے وہییں چوبیس لاکھ سے زیادہ مال مویشی ہلاک ہوئے، کم ازکم 39 چھوٹے ڈیموں کو نقصان پہنچا اور تین کروڑ41 لاکھ کی آبادی بے گھر ہوئی۔
سندھ حکومت جماعت اسلامی کے ٹاؤنز کو ماہانہ ایک ارب روپے دیتی ہے،میئرکراچی
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ خطرناک سیلابوں میں ملک میں 33 لاکھ سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا یا مکمل طورپرتباہ ہوئے۔
2010 کے سیلاب میں ملکی معیشیت کو10 ارب ڈالرکا نقصان ہوا تھا، کم ازکم 1985 افراد جان کی بازی ہارگئے۔سیلاب سے کم ازکم 6500 کلومیٹرروڈ نیٹ ورک تباہ ہوا تھا، جہاں 354 رابطہ پلیں تباہ ہوئیں وہی ساڑھے 9 لاکھ سے زائد مویشی سیلاب کی نظرہوئے، اسطرح 2010 کے سیلاب میں ساڑھے 65 لاکھ ایکڑفصلیں تباہ ہوئیں جبکہ 2 کروڑ 11 لاکھ سے زائد کی آبادی متاثرہوئی تھی، گیارہ ڈیموں کو نقصان پہنچا جبکہ ساڑھے سولہ لاکھ گھروں کو سیلاب لے ڈوبا۔

تحقیق کے مطابق سیلاب 2022 میں 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا جبکہ 1739 انسانی چلی گئیں، ساڑھے چھ ہزارسے زائد گائوں تباہ جبکہ ڈیموں کو نقصان پہنچا جبکہ 4212 کلومیٹر روڈ نیٹ ورک تباہ ہوئے، 28 ڈیم اورتین کروڑ25 لاکھ سیلاب سے متاثرہوئے۔

سیلاب سے ایک کروڑ 92 لاکھ ایکڑسے زائد کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں تھی، اسی سیلاب میں سترشہروں کا فوڈ باسکٹ مکمل طورپرتباہ ہوگیا تھا، تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ جنوری 2023 میں بین الاقوامی برادری اورامداد کرنے والے اداروں نے دس ارب ڈالرز کی امداد کا اعلان کیا تھا لیکن اب تک پاکستان 2 ارب 80 کروڑ ڈالرملے ہیں۔

اگرموسمی تبدیلیوں کی بات کی جائے تو ملک میں پچھلے پانچ سال میں سب سے زیادہ بارش 192 ملی میٹر2022 میں ہوئی تھی، اسطرح پچھلے چھ سالوں میں سب سے زیادہ بارش کا سامنے کرنے والے پانچ اضلاع میں سیلاب آیا ہے۔

ان شہروں میں 2022 میں موہن جوڈرو 779 ملی میٹرکے ساتھ نمبرون شہر رہا تھا، سارکند میں 2022 میں 617 ملی میٹر جبکہ خیرپورمیں 606 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی تھی۔

رواں سال جہلم میں 594، چکلالہ میں 557 اورلاہورمیں 538 ملی میڑبارش ریکارڈ کی گئی تھی، کراچی میں 2020 میں سب سے زیادہ بارش 588 ملی میٹرریکارڈ کی گئی تھی۔

سیلاب اور قومی آفات سے نمٹنے والے اداروں کے فنڈز میں پندرہ ارب روپے کی سنگین بے ضابطگیاں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

پاکستان میں شدید بارشوں، بادل پھٹنے اورمون سون کی حالیہ صورتحال کودیکھتے ہوئے پاکستانی حکام کہتے ہیں 2015 میں میں جنوب مغربی مون سون کی بارش ملک بھر میں تقریباً 12% کم رہی، یعنی موسمی اوسط سے کم جاری رہی تھی، پھر 2022 میں مون سون میں بارشیں غیرمعمولی تھیں،خصوصاً جولائی اور اگست میں دوگنا یا اس سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی تھی جس جانی و مالی نقصان ہوا۔

عالمی بینک و پاکستان کلائمٹ کونسل نے نقصانات کو چالیس ارب ڈالرز تک قرار دیا تھا، رواں سال خیبرپختونخواہ اورکراچی میں شدید موسمی بارشیں ہوئی ہیں جس میں ساڑھے سات سواموات ہوچکی ہیں اور بنیر، سوات، باجوڑ وغیرہ میں بادل پھٹے ہیں جس سے سینکڑوں انسانی جانیں چلی گئی ہیں۔
ارلی وارننگ سسٹم میں بہتری لائی گئی ہے،عوام موسم کی صورتحال سے باخبر رہیں،چیئرمین این ڈی ایم اے
ماحولیاتی سائنسدانوں نے تصدیق کی کہ یہ بارشیں 10–15% زیادہ شدت کے ساتھ آئیں کیو نکہ موسمیاتی تبدیلیوں نے بارش کو مزید شدید بنایا اورمزید صورتحال خراب ہوسکتی ہے، کے پی کے کئی اضلاع بری طرح متاثر ہوئے جہاں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے وہی اربوں روپے کا نقصان ہوا، 2025 کے اربن فلڈنگ اور دریائی سیلاب کی تباہی کا ریکارڈ اکھٹا کیا جارہا ہے۔
