فلسطینی تنظیم حماس نے غزہ میں جاری لڑائی روکنے کے لیے جنگ بندی کی مجوزہ پیشکش پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور اس حوالے سے مصری و قطری ثالثوں کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت لڑائی کو ابتدائی طور پر 60 دن کے لیے روکا جائے گا جس دوران آدھے اسرائیلی قیدیوں کو فلسطینی قیدیوں کے بدلے رہا کیا جائے گا۔
حماس نے غزہ کو خالی کرانے کا اسرائیلی منصوبہ مسترد کر دیا
معاہدے میں اس بات کی بھی شق شامل ہے کہ اسرائیلی افواج انسانی بنیادوں پرامدادی سامان کوغزہ میں داخل ہونے کی اجازت دیں گی تاکہ تباہ حال علاقے میں انسانی بحران کچھ حد تک کم ہو سکے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے غزہ میں انسانی بحران کو “تباہ کن سے بھی بدتر” قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق غزہ میں پانچ سال سے کم عمر کے 3 لاکھ 20 ہزار بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔
