اسلام آباد (فرحان بخاری) قریبی اسٹریٹجک رابطوں اور معاشی سفارت کاری کے امتزاج کے نتیجے میں، جس کی قیادت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی، جمعہ کے روز امریکا نے پاکستان کی برآمدات پر 19 فیصد اضافی ٹیرف لگانے پر اتفاق کیا۔ یہ حتمی نتیجہ امریکا کی جانب سے ابتدائی طور پر اعلان کردہ 29 فیصد ٹیرف کے مقابلے میں 10 فیصد کمی ہے۔
اس سے پاکستان کو اپنے جنوبی ایشیائی حریفوں کے مقابلے میں بڑا فائدہ ملا ہے، خاص طور پر بھارت کی ان برآمدات کے مقابلے میں جو ٹیکسٹائل، متعلقہ مصنوعات اور چاول کے شعبوں میں ہیں۔ پاکستان اپنی برآمدات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ بار بار پیدا ہونے والے زرمبادلہ کے بحران سے نکل سکے، اس نے ایک اہم برتری حاصل کر لی ہے۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب امریکا نے چند روز قبل بھارتی برآمدات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ بھارت کی برآمدات کو روس کے ساتھ لین دین کی وجہ سے مزید سزاؤں کا بھی سامنا ہوگا۔ جنوبی ایشیا میں، امریکا کا بنگلہ دیش پر لگایا گیا اضافی ٹیرف پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
ٹرمپ کا اقتصادی وار، پاکستان پر 19 فیصد ٹیرف نافذ
بھارت کے لیے امریکی درآمدی ٹیرف کا یہ جھٹکا اس وقت آیا ہے جب امریکا نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے پر چھ بھارتی تیل کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ ماضی میں امریکا کم از کم چار بھارتی شپنگ کمپنیوں پر بھی پابندیاں لگا چکا ہے جو ایران سے تیل کی ترسیل میں ملوث تھیں، جو کہ ایران کی برآمدات پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی تھی۔
تازہ ترین پیش رفت حالیہ دورہ امریکا کے بعد سامنے آئی ہے جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا۔ اس کے علاوہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے لیے امریکا کا دورہ کیا۔
تاہم اصل معاشی بات چیت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی قیادت میں ہوئی جس نے حتمی نتائج تک پہنچنے سے پہلے مخصوص تفصیلات طے کیں۔ وزیر خزانہ نے مذاکرات کے دوران امریکی حکام کو قائل کیا کہ پاکستان پر کم ٹیرف عائد کرنا قابلِ جواز ہے اور اس سے امریکی معاشی مفادات کو نقصان نہیں پہنچے گا۔
اسی سلسلے میں بدھ کے روز پاکستان نے بجٹ میں اعلان کردہ 5 فیصد ”ڈیجیٹل پریزنس پروسیڈز ٹیکس“ کو ختم کر دیا جو کہ پاکستان سے آن لائن خریداری پر لاگو ہونا تھا۔ یہ ٹیکس ایمیزون اور ٹی مو جیسی کمپنیوں پر اثر انداز ہوتا جو اپنی مصنوعات آن لائن فروخت کرتی ہیں۔ امریکی کاروباری حلقوں نے اس ٹیکس پر تنقید کی تھی کیونکہ وہ اپنی آن لائن برآمدات بڑھانا چاہتے ہیں۔
اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان ، ڈالر کی قیمت مزید گر گئی
اسلام آباد میں ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے ہم نیوز کو بتایا کہ پاکستان کے لیے امریکی خام تیل کی پہلی کھیپ اگست کے آخر میں لوڈ کی جائے گی اور اکتوبر میں پہنچے گی۔ اس سے قبل پاکستان کی جانب سے امریکا سے خام تیل خریدنے کی پیشکش کی خبریں آئی تھیں تاکہ امریکا کے ساتھ تجارتی سرپلس کو کم کیا جا سکے۔
تیل کے بارے میں ایک اور پیش رفت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ پاکستان کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں امریکا ایک امریکی تیل کمپنی کے ذریعے پاکستان کی تیل تلاش کی سرگرمیوں میں مدد کرے گا۔ توانائی کے ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے تیل و گیس کے ذخائر کی ترقی کے لیے وسیع غیر استعمال شدہ مواقع پیش کرتا ہے، ان میں نہ صرف زمینی علاقے شامل ہیں بلکہ بحیرہ عرب میں آف شور ایکسپلوریشن کے مواقع بھی موجود ہیں۔
