قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی عمر ایوب خان نے انصاف کی فوری فراہمی کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام خط لکھا ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے اپنے خط میں لکھا کہ 9 مئی کے مقدمات انصاف کے بجائے سیاسی انتقام کا شکار ہو چکے ہیں،عدالتی کارروائیاں بدنیتی، جلد بازی اور دباؤ کے تحت کی جا رہی ہیں۔
سونا مزید 1600 روپے سستا،فی تولہ قیمت 3 لاکھ 54 ہزار 700 روپے ہوگئی
ملک میں آئین اور عالمی قوانین پامال ہو رہے ہیں،جھوٹے مقدمات، زبردستی اعتراف اور سیاسی انتقام کی فضا عدلیہ کی ساکھ کو تباہ کر رہی ہے۔ عدلیہ کو ظلم کے خلاف ڈھال بننا ہوگا، انصاف نظر آنا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی نے چیف جسٹس سے 6 نکاتی اصلاحاتی اقدامات پر فوری عملدرآمد کی اپیل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ عدالتی طرزِ عمل پاکستان کے جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔
9 مئی مقدمات میں انصاف کا خون ہو رہا ہے،انسداد دہشتگردی عدالتوں کی رات گئے کارروائیاں منصفانہ ٹرائل کی نفی ہیں،ملزمان کو وکیلِ صفائی کے حق سے محروم کرنا آئینی خلاف ورزی ہے۔
پنجاب بھر میں باغات نو اسموکنگ زون ڈکلیئر
میڈیا کو مقدمات تک رسائی نہ دینا شفافیت کے تقاضوں کی خلاف ورزی ہے،عدلیہ کا کام ظلم کا ہتھیار نہیں بلکہ انصاف کی بحالی ہے،پولیس اور پراسیکیوشن کی بے ضابطگیوں کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔
انہوں نے اپنے خط میں مزید کہا کہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے،عدالتیں تاریخ کے کٹہرے میں ہیں، فیصلہ قوم کی آنکھوں کے سامنے ہو گا۔
PLD 1975 SC 234 اور 2012 SC 553 فیصلے عدل کی بنیاد واضح کرتے ہیں،انصاف صرف ہونا نہیں، نظر آنا بھی ضروری ہے۔
