سانحہ سوات سے متعلق خیبرپختونخوا حکومت نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کر دی ہے۔
رپورٹ میں محکمہ سیاحت کی غفلت اور کوتاہیوں کا انکشاف ہوا ہے، رپورٹ کے مطابق سوات میں سانحے کی جگہ سے محکمہ سیاحت مکمل طور پر غائب رہا۔
سانحے کا باعث بننے والا ہوٹل مقررہ باؤنڈری وال کراس کر کے دریا میں بنایا گیا تھا، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ دریا کنارے ہوٹلز کے پاس لائسنس نہ ہونے کے باوجود محکمہ سیاحت خاموش رہا۔
معرکہ حق میں شاندار کامیابی پر آئی ایس پی آر نے ڈاکومنٹری جاری کر دی
محکمہ سیاحت کی سرکاری ہیلپ لائن سانحے کے وقت غیرفعال تھی،سوات فضاگٹ جیسی حساس جگہ پر ٹورازم پولیس موجود نہیں تھی اور سیاحوں کی حفاظت کیلئے محکمہ سیاحت کے اقدامات بھی ناکافی تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ علاقے میں ٹریول ایجنٹس بغیر کسی قاعدے قانون کے کام کر رہے ہیں۔ ٹورازم اتھارٹی ایونٹ منیجمنٹ کو ترجیح دے کر سیاحوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہے۔
رپورٹ میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر ہوٹل کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ سیاحتی مقامات میں ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کیلئے لائسنسنگ سسٹم نافذ کیا جائے۔
مون سون بارشوں کا چوتھا سلسلہ کل سے شروع ہو گا، پی ڈی ایم اے
سیاحتی مقامات پر ٹورازم پولیس کی ہمہ وقت تعیناتی یقینی بنانے، سیاحتی مقامات پر سہولت سینٹرز قائم کرنے اور میڈیا کے ذریعے سیاحوں کو حفاظتی تدابیر اور آگاہی دینے کی مہم شروع کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں تمام غیر رجسٹرڈ ٹریول ایجنٹس کے خلاف کارروائی اور ذمہ دار افسران کے خلاف 30 روز میں محکمانہ کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔محکمہ سیاحت کی جانب سے انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
