پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ فتنہ الہندوستان نے امن کو سبوتاژ کیا ، بھارت گزشتہ 20 سال سے ریاستی دہشتگردی کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے ، بھارت اور فتنہ الہندوستان پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
سیکرٹری داخلہ محمد خرم آغا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی بھارت ہمارے وطن عزیز کیخلاف سرگرم ہے۔ بھارت دہشتگردوں کو فنڈز فراہم کرتا ہے، سرنڈر کرنے والے فتنہ الہندوستان کے ارکان نے بیانات میں تمام حقائق بتائے۔
ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ 2009 میں پاکستان نے بلوچستان میں بھارت کے ملوث ہونے کا ڈوزیئر اقوام متحدہ میں پیش کیا ، 2016 میں بھی بھارت کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کے شواہد دنیا کے سامنے رکھے۔
ان کا کہنا تھا کہ مختلف گرفتار دہشتگردوں نے بھارتی پشت پناہی کا اعتراف کیا ہے ، کلبھوشن یادیو نے اعترافی بیان میں حقائق بیان کیے۔ یہ بھارت کا دہشتگرد چہرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ 21 مئی کو بھارت کے کہنے پر دہشتگردوں نے بچوں پر حملہ کیا ، 12 اپریل 2024 میں دہشتگردوں نے 12 مزدوروں ،28 اپریل کو کیچ میں 2 مزدوروں، 9 مئی 2024 کو سربند میں 7 افراد ، 14فروری کو 10 ،19 فروری کو بارکھان میں 7 مسافروں شہید کیا۔
میر علی واقعے میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج ملوث ہے، آئی ایس پی آر
انہوں نے مزید بتایا کہ 11 مارچ کو جعفر ایکسپریس حملے میں دہشتگردوں نے 26 مسافروں ،7 مئی کو بھارت نے حملہ کرکے 40 معصوم شہریوں کو شہید کیا ، اس کے علاوہ 26 اگست کو مشہ خیل میں 22 مسافروں اور9 مارچ کو پنچگور میں 3 افراد کو شہید کیا گیا،فتنہ الہندوستان خضدار میں بچوں کی شہادت میں ملوث ہے۔
ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ 6 اکتوبر کو کراچی میں چینی باشندوں پر حملہ ہوا، بھارتی میڈیا حملے سے متعلق پہلے سے آگاہ تھا، جعفر ایکسپریس پر حملہ ہوا تو بھارتی میڈیا نے جشن منایا۔ خضدار میں بچوں پر حملہ ہوا بھارت کے اکاونٹس نے تصاویر اور خبریں دینا شروع کر دیں۔ کون سا دنیا میں ایسا ملک ہے جو دہشتگردی کے واقعات کو اس طرح خوشی مناتا ہے؟ بھارت کے علاوہ کوئی اور ملک نہیں جو لوگوں کے قتل پر خوشی منائے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارتی میجرسندیپ کا بیان ہے کہ بھارت بلوچستان سے لاہور تک دہشتگردی کرا رہا ہے، میجر سندیپ کے بیان سے واضح ہوا کہ یہ کیسے پاکستان میں دہشتگردی کرانے میں ملوث ہیں۔
بھارت امریکہ ہے نہ پاکستان افغانستان، حملہ کیا تو ہمارا ردعمل تیز اور وحشیانہ ہوگا، پاک فوج
انہون نے مزید کہا کہ 6 اور 7 مئی کی رات بھارت نے پاکستان میں کچھ مقامات پر حملہ کیا، انٹرنیشنل میڈیا نے ان مقامات کا دورہ کیا، کیا میڈیا کو ان مقامات پر ایسی کوئی سرگرمی نظر آئی جو مشکوک ہو، بھارت بتائے کس ثبوت کی بنیاد پر پاکستان میں ان مقامات کو نشانہ بنایا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد حیوانیت پر اتر آئے ہیں، پہلگام واقعہ کے بعد پاکستان نے ہر فورم پر بھارت سے ثبوت مانگے، فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں سے مہنگا اسلحہ برآمد ہو رہا ہے، بھارت دہشتگردوں کو مہنگا اسلحہ خرید کر دے رہا ہے، افغانستان میں امریکا کاچھوڑاگیا اسلحہ دہشتگردوں سے ملتاہے ،بھارتی میڈیا ایک روز قبل میانوالی حملے سے متعلق بتاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج پاکستان میں دہشتگردی کروارہی ہے، 11 مئی کو بھارتی ریٹائرڈ آرمی افسرٹی وی پر آ کر چیختا ہے اور بلوچستان بلوچستان کرتا ہے، 11مئی کو را نے کالعدم بی ایل اے سے پریس ریلیز جاری کروائی۔ پوری دنیا نے بھارت کی دہشتگردی دیکھی ہے اور الزام ہم پر لگا رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی جھوٹ کا پردہ چاک کر دیا
انہوں نے کہا کہ جب دہشتگرد زخمی ہوتے ہیں تو بھارت ان کا علاج کرتا ہے ، دہشتگرد اسلم اچھو بھارت کے اسپتال میں زیرعلاج ہے۔ بھارت دہشتگردی کیلئے خواتین کو استعمال کرتا ہے۔ خارجیوں کے بارے میں نشانیاں ایک ایک کرکے سامنے آ رہی ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارتی عزائم کا علم تھا اس لیے معرکہ حق کےدوران ایک فوجی بھی بلوچستان سےنہیں ہٹایا گیا، جس رات بھارت نے ڈرون بھیجے اسی رات بلوچستان میں 5 دہشتگرد مارے گئے ،آرمی چیف نے کہا تھا 13 لاکھ انڈین آرمی ہمیں شکست نہیں دے سکتی، فتنہ الہندوستان کے ترجمان بھارتی چینلز پردہشتگردی کا پرچار کرتے ہیں ، رواں سا ل ملک بھر میں 747 دہشتگرد ہلاک کیے گئے، جن میں 203 ں کا تعلق فتنہ الہندوستان سے تھا۔
پریس کانفرنس کے دوران خضدار بس سکول پر حملے میں شہید اور زخمی ہونے والے طلبہ کی تصاویر بھی دکھائی گئیں۔
قبل ازیں سیکرٹری داخلہ محمد خرم آغا نے کہا کہ دہشتگردوں کے عزائم کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ 21 مئی کو خضدار میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ، دہشتگردوں نے اسکول کے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا۔ خضدار حملے میں فتنہ الہندوستان ملوث ہے ، دہشتگردوں کو خضدار حملے کے خطرناک نتائج بھگتنا ہوں گے۔
