ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی کا کہنا ہے کہ ہم دہشت گردی کے مسئلے کا مستقل حل چاہتے ہیں،ہمیں بین الاقوامی فورم پر دہشت گردی پر بات کرنے سے کوئی اعتراض نہیں۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں انہوں نے افغان وزیر دفاع کے بھارت کے مبینہ خفیہ دورے پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے افغانستان اور بھارت کے تعلقات پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوں گے۔
میڈیا ہمارا فخر،بھارتی میڈیا کو جو جواب دیا وہ یادگار ہے، آرمی چیف
کسی ملک کے دوسرے ممالک سے تعلقات پر تبصرہ نہیں کرتے،ہر ریاست کو خود مختار حیثیت میں اپنی خارجہ پالیسی بنانے کا حق حاصل ہے،ہم بھارت اور افغانستان کو خود مختار اور آزاد ریاستیں تسلیم کرتے ہیں۔
بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے اور پروموٹ کرنے میں ملوث رہا ہے،بھارت نے پاکستان سمیت دیگر ممالک میں بھی قتل کی سازشیں کیں،ہمارے پاس بھارتی دہشت گردی کے ٹھوس شواہد اور مواد موجود ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے بیک ڈور اور فرنٹ ڈور رابطوں کی تردید کر دی
جب بھی دہشت گردی پر بات ہوگی، پاکستان اپنا مؤقف واضح انداز میں پیش کرے گا۔
