اسلام آباد: پاکستان میں انتخابی عمل کے ذمہ دار ادارے الیکشن کمشن آف پاکستان نے پولنگ عملے کے لیے 13 نکاتی ضابطہ اخلاق جاری کردیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ضابطہ اخلاق میں پولنگ عملے پر وقت کی پابندی لازم قرار دی گئی ہے۔
انتخابی عملے کو پابند کیا گیا ہے کہ اپنی ذمہ داریاں مکمل غیر جانبداری سے ادا کرتے ہوئے ووٹرز، سیاسی جماعتوں کے امیدواروں، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور مبصرین کے ساتھ تعصب نہ برتے۔
ضابطہ اخلاق کے مطابق پولنگ عملہ سیاسی کارروائی یا انتخابی مہم کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی کسی پارٹی کا بیج یا انتخابی نشان لگائے گا۔
ووٹرز کے حق رائے دہی کی رازداری کو یقینی بناتے ہوئے پولنگ عملہ بزرگ شہریوں، خواجہ سراؤں، حاملہ خواتین اور معزور افراد کےساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئے گا اور انہیں رہنمائی و سہولیات فراہم کرنے کا مجاز ہوگا۔
پاکستان میں خیبرپختونخوا اور سندھ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کر کے تحلیل ہو چکی ہیں۔ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی اپنی مدت مکمل کر کے آج رات 12 بجے تحلیل ہو جائیں گی۔
نگران وزیراعظم کے طور پر سابق چیف جسٹس ناصر المک کا نام تجویز کیا گیا تھا جو کل جمعہ کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
ملک میں آئندہ عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے 25 تا 27 جولائی کی تاریخ تجویز کر کے صدر مملکت کو حتمی منظوری کے لیے ارسال کی تھی جس کے بعد ایوان صدر نے 25 جولائی کو عام انتخابات کی تاریخ مقرر کی ہے۔
