اسلام آباد: پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کی نامزدگی پر تحریک انصاف کے ارکان پھٹ پڑے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے کور کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی ہم نیوز نے حاصل کرلی ہے جس کے مطابق نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے چناؤ پر تحریک انصاف مشکل میں پھنس گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نگراں وزیراعلیٰ پنجاب اور نگراں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی نامزدگی پر محدود مشاورت عمران خان کو مہنگی پڑ گئی، پارٹی کے کور گروپ اجلاس میں ارکان کی اکثریت نے نگراں وزرائے اعلیٰ کے معاملے پر مشاورت نہ کرنے کا شکوہ کیا۔
ناصر کھوسہ کی بحیثیت نگراں وزیراعلیٰ پنجاب نامزدگی پر تحریک انصاف کے ارکان نے شکایات کے انبار لگا دیے، اجلاس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کا نام واپس لینے کی ذمہ داری خود لیتے ہوئے کہا کہ غلطی ہوئی تو ٹھیک کریں گے اور اگر شور شرابہ ہوا تو میں ذمہ دارہوں گا۔
ذرائع کے مطابق صوبائی وزرا بھی نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی نامزدگی سے لاعلم نکلے، صوبائی وزرا نے عمران خان سے شکایت کی کہ منظور آفریدی کے نام پر ہم سے مشاورت تک نہیں کی گئی۔
عمران خان کی منظورآفریدی سے ملاقات بھی طے نہیں تھی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ( کے پی) پرویز خٹک بغیر بتائے اچانک منظور آفریدی کو لے کر بنی گالا پہنچے اور منظور آفریدی سے ملاقات کے بعد عمران خان نے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
نگراں وزیراعلیٰ کی تقرری کے معاہدے پردستخط کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب دن بھرقائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی محمود الرشید کو ڈھونڈتے رہے اورمحمود الرشید گاؤں جانے کا بہانہ بنا کر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ جانے سے بچتے رہے۔
تحریک انصاف کے کور گروپ نے محمود الرشید کے مؤقف پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ اُنہوں نے پارٹی کا بیانیہ ہی بدل دیا اور طارق کھوسہ اور ناصر کھوسہ کے نام میں فرق والی بات بچکانہ انداز میں کی۔
