کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے سبب جرمنی میں ایسٹر کے موقع پر سخت لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ ملک میں نافذ لاک ڈاؤن میں 18 اپریل تک کی توسیع کردی گئی ہے۔
جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق جرمنی میں وفاقی اور ریاستی رہنماؤں نے ایسٹر کی تعطیلات کے دوران سخت ترین لاک ڈاؤن پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس حوالے سے جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ وائرس کی نئی قسم کی وجہ سے، ”ہمیں نئی وبا کا سامنا ہے”۔
جرمن چانسلر انجیلا مارکل نے منگل کے روز اعلان کیا کہ جرمنی میں نافذ موجودہ لاک ڈاؤن میں 18 اپریل تک کی توسیع کی جا رہی ہے۔ اس کے تحت ملک میں یکم اپریل سے پانچ اپریل تک یعنی ایسٹر کی تعطیلات کے دوران، پہلے سے بھی زیادہ سخت بندشیں عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس دوران روزمرہ گھریلو ضروری اشیاء کے اسٹور سمیت تقریبا ًسبھی دکانیں بھی بند رہیں گی۔
اس سلسلے میں جرمنی کی سولہ ریاستوں کے رہنماؤں اور انجیلا مارکل کے درمیان طویل بات چیت ہوئی ہے۔
ڈی ڈبلیو کے مطابق جرمنی میں کورونا وائرس سے متاثرین کے کیسز میں اتنی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہ حکام کو ایک بار پھر سے اس بات کا خدشہ لاحق ہے کہ کہیں اسپتالوں میں ‘انٹینسیو کیئر یونٹ’ (آئی سی یو) کی کمی نہ لاحق ہو جائے۔ جرمن چانسلر نے اسی مناسبت سے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی کو کورونا کی، ”تیسری لہر کی تیز رفتار نمو کو توڑنے کی ضرورت ہے۔”
اس ماہ کے اوائل میں ریاستی رہنماؤں نے احتیاطی تدابیر کے ساتھ بتدریج لاک ڈاؤن کو ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا تاہم منگل کے روز کا یہ فیصلہ اس کے بالکل برعکس ہے
ڈی ڈبلیو کے مطابق مسیحیوں کے معروف مذہبی تہوار ایسٹر کے موقع پر پانچ دن بند کے دوران گرجا گھروں سے اپنی سروسز آن لائن مہیا کرنے کو کہا جائے گا۔
اس پانچ روزہ چھٹی کے دوران دو مختلف گھروں کے پانچ سے زیادہ افراد کو ایک ساتھ ملنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس دوران کورونا جانچ اور ویکیسین لگوانے کے مراکز مسلسل کھلے رکھے جا سکتے ہیں۔
عوامی اجتماعات پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔ پانچ روز ہ چھٹی کے دوران تقریباً تمام دکانیں اور اسٹور بند رہیں گے۔ روزمرہ گھریلو ضرورت کی اشیاء کی دکانوں کو صرف تین اپریل تک کھلے رہنے کی اجازت ہے۔
کوئی بھی جرمن شہری جو بیرون ملک میں ہو اسے جرمنی واپسی کے لیے فلائٹ لینے سے پہلے اپنا کورونا ٹیسٹ کروانا لازمی ہوگا۔
قومی سطح پر موجودہ لاک ڈاؤن میں 18 اپریل تک کی توسیع کر دی گئی ہے جبکہ پہلے اس لاک ڈاؤن کو 28 مارچ تک کے لیے ہی نافذ کیا گیا تھا۔
نئے اعلان کے مطابق اگر کسی علاقے میں تین دن تک مسلسل سو سے زیادہ متاثرین پائے گئے تو اس خاص علاقے میں اور زیادہ سخت بندشیں عائد کی جائیں گی۔ اس دوران تمام میوزیم، آرٹ گیلریزی اور کھیل کے دیگر مقامات مکمل طور پر بند رہیں گے۔۔
