فوج کی جانب سے میانمار میں آن سان سوچی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد عوامی مظاہروں اور سول نافرمانی کی تحریک میں شامل پولیس افسران سمیت متعدد افراد ہمسایہ ملک بھارت فرار ہوگئے ہیں۔
بھارت فرار ہونے والے میانمار پولیس کے افسران نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فوجی حکمرانوں کے احکامات ماننے سے اس لیے انکار کیا کیونکہ وہ (فوجی حکمران) انہیں شہریوں پر گولیاں چلانے کے احکامات دے رہے تھے۔
بھارت کی ریاست میزورام میں پناہ گزین میانمار کے ایک پولیس افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ “مجھے مظاہرین پر گولیاں چلانے کا حکم دیا گیا تھا لیکن میں نے انکار کردیا، میں ایسا نہیں کرسکتا تھا۔ میں ڈیوٹی چھوڑ کر سیدھے گھر چلا گیا اور خاندان کے افراد سمیت بھارت نکل پڑا”.
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا خیال تھا کہ فوج کی جانب سے منتخب حکومت کا تختہ الٹنا غلط اور غیر قانونی تھا۔
بھارتی حکام کے مطابق میانمار سے پولیس افسارن فوجی احکامات کی تعمیل نہ کرنے پر جوابی کارروائی کے خوف سے فرار ہوئے ہیں، جبکہ میانمار کی فوج، سول نافرمانی تحریک کے قائدین اور باغی پولیس افسران کا پتا لگانے اور انہیں پکڑنے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔
ایک اور پولیس افسر نے کہا کہ وہ بھارت اس لیے فرار ہوئے کیونکہ ان کی تعیناتی کی جگہ بڑی تعداد میں لوگ مظاہروں میں شریک ہورہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں مظاہرین پر فائر کھولنے کے احکامات دیے گئے تھے، لیکن “میں نے اپنے باس سے کہا میں ایسا نہیں کرسکتا اور میں مظاہرین میں شامل ہوگیا۔ حالات خراب پر میں بمعہ اہلخانہ بھارت فرار ہوگیا۔ میانمار میں فوج بہت زیادتی ظالم بنتی جارہی ہے”
میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد 100 سے زائد افراد بشمول پولیس افسران بھارت فرار ہوگئے ہیں۔ میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف جاری احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے اب تک 50 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
