جینیوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیں۔
ڈبلیو ایچ او نے یورپ میں کورونا کیسز میں کمی کو تسلی بخش قرار دے دیا، ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈھانوم گیبریسس کا کہنا تھا کہ یورپ میں کورونا کیسز میں کمی ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کورونا کا علاج: عالمی ادارہ صحت نےہائیڈروکسی کلوروکوئن کے تجربات معطل کر دئیے
انہوں نے عالمی سطح پر کورونا کے بڑھتے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر کورونا کیسز بدستور بڑھ رہے ہیں۔
ٹیڈروس اڈھانوم گیبریسس کا کہنا تھا کہ یورپ کے بعد برازیل کورونا وائرس کا نیا مرکز بنتا جارہا ہے۔
خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل برطانوی ڈاکٹروں اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا تھا کہ کورونا وائرس کا جلد خاتمہ ممکن نہیں ہے، اس کی دوسری اور تیسری لہر بھی آ سکتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او یورپ کے سربراہ ڈاکٹر ہینس کلوگ نے کہا تھا کہ دنیا ابھی کورونا وائرس سے نجات سے بہت دور ہے۔ جب تک ویکسین تیار نہیں ہو جاتی اس وبا کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔
ڈاکٹر ہینس کلوگ نے کہا کہ یورپ میں کورونا کیسز میں کمی کے باوجود پورا خطہ اب بھی شدید خطرے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وبا نے ثابت کیا ہے کہ انسانی صحت کسی بھی چیز سے زیادہ قیمتی ہے۔ صحت ہے تو ہی ملکی معیشت بھی بہتر ہو گی اور ملکی سلامتی بھی۔
یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس پر عالمی ادارہ صحت نے تاخیر سے ایکشن لیا، امریکی صدر
ڈاکٹر ہینس کلوگ کا مزید کہنا تھا کہ پوری دنیا کو اب سب سے زیادہ صحت کے شعبے پر سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔
