بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم رئیسانی نے ایم فل کرنے کے لیے بلوچستان یونیورسٹی میں داخلہ لے لیاہے۔ انہوں نے تعلیمی ڈگری سے متعلق اپنے سابقہ بیان پر معافی بھی مانگ لی ہے۔
2010 میں کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’ڈگری ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا جعلی‘، اُس وقت وہ صوبے کے وزیرِاعلیٰ تھے اور اُنہیں اپنے بیان پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے نہ صرف قوم سے معافی مانگی بلکہ آئندہ ایسی بات کرنے سے اجتناب کا عندیہ بھی دیا۔
فی الوقت 64 سالہ نواب اسلم رئیسانی بلوچستان یونیورسٹی میں زیرِتعلیم ہیں اور ایم فِل کی ڈگری حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں۔
اسلم رئیسانی کے اگلے مہینے مڈ ٹرم امتحانات بھی ہونے والے ہیں۔
اسلم رئیسانی کا کہنا ہے کہ وہ ریسرچ میں جانا چاہتے ہیں ۔ انکا کہناہےکہ پہلے کافی عرصے سےوہ سوچ رہے تھے کہ ہیومن انوائرمنٹ پر ریسرچ کریں ۔تاہم یہ ایم فل کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
اسلم رئیسانی نے اپنے پرانے بیان کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انکی ڈگریاں اصلی ہیں۔ ایک دن اسمبلی سے باہر نکلا تو رپورٹر حضرات نے سوال کیا کہ جعلی ڈگری کے باعث اراکین اسمبلی نااہل ہورہے ہیں کیا کہیں گے؟
اسلم رئیسانی کے مطابق انہوں نے جوابا کہا ’’ ابھی بھی گھر میں رہتاہوں بعد میں بھی اپنے گھر میں رہوں گا۔ ڈگری ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا جعلی ۔ ‘‘
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں طلبہ مجھ سے ملتے ہیں گپ لگاتے ہیں ۔اکثر طلبہ میرا انتظارکررہے ہوتے ہیں۔ ہم ملکر چائے پیتے ہیں۔
