اسلام آباد: رہنما پاکستان پیپلز پارٹی سید نوید قمر نے کہا ہے کہ حکومت اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے آخر کرنا کیا چاہتی ہے۔ اب وزیراعظم عمران خان عوام کے سامنے وضاحت دے دیں۔
ہم نیوز کے پروگرام “پاکستان ٹونائٹ” میں میزبان ثمرعباس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم میں اصلاحات تو لائی جا سکتی ہیں مگر اس کا خاتمہ ممکن نہیں کیونکہ یہ ملک کے فائدے کے لیے کی گئی تھی۔
رہنما پی پی پی نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کی بات کرنے والے پی ٹی آئی وزرا جواب دیں کہ اگر صوبے مضبوط نہیں ہوں گے تو ملک میں کیسے استحکام آئے گا۔
سید نوید قمر نے میزبان سے گفتگو کے دوران کہا کہ سب جماعتوں اس بات سے باخوبی واقف تھیں کہ الگ صوبہ بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن وہ اور بات ہے اگر صدر عارف علوی کو سیاسی طور پر جنوبی پنجاب صوبے کے معاملے پر پیچھے ہٹ جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چاہے پی ٹی آئی ہو یا کوئی دوسری سیاسی جماعت جو بھی جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے لیے قدم بڑھائے گا پیپلز پارٹی ساتھ ضرور دے گی۔
دوسری جانب پروگرام میں شریک مہمان اور وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت شاندانہ گلزارنے کہا کہ ہم کوئی یوٹرن نہیں لے رہے اور نہ ہی پاکستان تحریک انصاف نے کبھی کہا کہ ہم سو دن میں الگ صوبہ بنا دیں گے۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم جنوبی پنجاب صوبے کے لیے سنجیدہ نہ ہوتے تو اسے اپنے ایجنڈے میں ہی شامل نہ کرتے۔ یہ معاملہ ہمارے لیے اہمیت کا حامل ہے اسی لیے اس کے لیے کمیٹی اور ٹاسک فورس بنا دی گئی ہے۔
اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے میزبان کے سوال پر رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ بعض مرتبہ ماضی کو ساتھ لے کر آگے چلنا پڑتا ہے، اگر پہلے بنائے گئے کسی قانون میں ترمیم یا اصلاحات کی بات کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
عوام پر بڑھتے مہنگائی کے طوفان کی مناسبت سے شاندانہ گلزار خان نے جواب دیا کہ ہم نے عوام کو کبھی جھوٹی تسلی نہیں دی کہ ہمارے لیے صورتحال بہت خوش آئند اور پر سکون ہے۔ ہم پہلے سن سے بول رہے ہیں کہ ابھی ہم پر مشکل وقت ہے۔
پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت نے یہ بھی کہا کہ سو روزہ ایجنڈا ہم نے خود احتسابی کے لیے بنایا تھا تاہم ہم ان دنوں میں تمام ہدف حاصل نہیں کرسکے۔
پروگرام میں موجود مہمان اور سابق گورنر سندھ محمد زبیرنے کہا کہ کچھ دن قبل وزیر خزانہ اسد عمر نے بیان دیا کہ ادائیگیوں میں توازن کا بحران ختم ہو چکا ہے۔ ہمارے پاس ڈالر کی کمی نہیں اور نہ ہی روپے پر کوئی دباؤ ہے۔ پھر جمعہ کے روز کیسے روپے کی قیمت پر دباؤ پیدا ہوا، اس معاملے کی تحقیقات ن لیگ کا مطالبہ ہے۔
سابق گورنر سندھ نے کہا کہ معیشت کے معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ مسئلے کا پتا لگا کرعوام کو بتایا جائے کہ اس کے حل کی درست سمت کیا ہو گی۔ اس وقت ڈالرز کی کمی سب سے بڑا خطرہ ہے۔
