لاہور: پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
نیب تحقیقات کے مطابق مجاہد کامران نے اقرباء پروری کی بدترین مثال قائم کرتے ہوئے اپنے منصب کا ناجائز استعمال کیا اور اپنی اہلیہ شازیہ قریشی سمیت 550 افراد کو غیرقانونی طور پر نوازا۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/92245/” position =”right”]
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ مجاہد کامران نے اپنی اہلیہ شازیہ قریشی کی غیرقانونی تقرری ضابطے کے خلاف جاتے ہوئے اپنے دستخط سے کورم پورا نہ ہونے کے باوجود سلیکشن بورڈ میں اہلیہ کی تقرری کی منظوری دی جبکہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو زائد العمر ہونے کے باوجود اوورسیز اسکالر شپ پر بھی بھیجا اور غیر قانونی طور پر لاء ڈیپارٹمنٹ کا ڈین بھی لگایا۔
مجاہد کامران نے 20 اپریل 2018 کو ایک کمیٹی قائم کر کے غیر قانونی تعیناتیاں کیں۔
تحقیقات کے مطابق مجاہد کامران نے 44 اسٹاف افسران اور 91 پروفیسرز سمیت دیگر ٹیچنگ اسٹاف کی غیرقانونی تقرریاں بھی کیں۔ محمد شریف نامی شخص کو بغیر درخواست اور دستاویزات کے ایڈیشنل ٹریژر کے عہدے پر بھرتی کیا جبکہ 34 ایڈیشنل اور ڈبل ڈیوٹی کی فرضی منظوریاں بھی دی گئیں ۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/91676/” position =”left”]
مزید یہ کہ 126 پروفیسرز اور ٹیچنگ اسٹاف کو چھ ماہ کے لیے کنٹریکٹ پر بھرتی کیا جبکہ 126 کنٹریکٹ ملازمین کی مسلسل کئی سال تک بغیر منظوری کے توسیع کی گئی۔
مجاہد کامران نے مولانا شوکت علی بلاک کو کریم بلاک میں شامل کرنے کی غیرقانونی منظوری دی اس ضمن میں مجاہد کامران کے خلاف محمد رفیق علوی نامی شخص نے لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی۔ عدالت نے 27 اکتوبر 2016 کو ڈی جی نیب لاہور کو تحقیقات کا حکم دیا۔
واضح رہے ڈاکٹر مجاہد کامران کیخلاف اختیارات سے تجاوز کرنے ، بے ضابطگیوں سمیت قواعد وضوابط سے ہٹ کربھرتیاں کرنے کا الزام ہے۔
